شبِ برات کی فضیلت اور اہمیت؟ کیا #شبِ_برات ایک اسلامی تہوار ہے؟ شبِ برات میں مسلمان لوگ کون سے جائز کام کر سکتے ہیں؟
(تم اذان دیتے رہو، کوئی نماز پڑھنے آئے یا نہ آئے وہ تمہاری ذمّہ داری نہیں ہے۔)
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نصف #شعبان کی رات (اپنے بندوں پر) نظر فرماتا ہے، پھر #مشرک اور (مسلمان بھائی سے) دشمنی رکھنے والے کے سوا ساری مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے۔“
[سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1390]
کسی صحیح #حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ نبی ﷺ نے:
-اس رات کوئی خاص نماز پڑھی
-پوری رات جاگ کر اجتماعی عبادت کی
ـچراغ جلائے
ـخصوصی وعظ یا اجتماع کروایا
البتہ ایک روایت میں آتا ہے کہ:
نبی ﷺ قبرستان (جنت البقیع) تشریف لے گئے اور دعا فرمائی
(یہ عمل انفرادی تھا، عوامی یا اجتماعی نہیں)
خلاصہ:
پھر بھی اگر آج کوئی مسلمان اس رات کو کچھ خاص کام کرنا چاہتا ہے تو اس سے کون روکے گا۔ کل قیامت کے دن ہم سب کو پوچھا جائے گا کہ ہم نے کون سے کام کیے، کس نیّت سے کیے یا کس فائدے کے لیے کیے۔
جو حضرات دینِ اسلام کو استعمال کر کے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں وہ صحیح اسلام تسلیم کرنے کے لیے کبھی راضی نہیں ہو سکتے ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق دے ! امین

Comments
Post a Comment
Thank you for commenting. Your comment shows your mentality.