#چنگیز خان کو بے وقوف #مسلمان حکمرانوں نے اتنا خطرناک کیسے بنا دیا؟
چنگیز خان نے تقریباً 1218ء میں محمد دوم #خوارزم شاہ کے ساتھ جنگ کے بجائے تجارت اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس نے ایک بڑا تجارتی قافلہ بھیجا، جس میں تقریباً 450 تاجر تھے۔ وہ قیمتی تحائف، ریشم، سونا، چاندی اور دیگر سامان لے کر آئے تھے۔
جب یہ قافلہ اوتراڑ پہنچا تو وہاں کے گورنر، انالچق، جسے غائر خان بھی کہا جاتا ہے، نے ان تاجروں پر جاسوسی کا الزام لگا دیا۔ اس نے تمام تاجروں کو گرفتار کر لیا اور بعد میں ان میں سے اکثر کو قتل کروا دیا، جبکہ ان کا مال بھی ضبط کر لیا۔
چنگیز خان نے فوراً جنگ شروع نہیں کی۔ اس نے معاملہ سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی۔ اس نے تین سفیر محمد خوارزم شاہ کے پاس بھیجے اور مطالبہ کیا کہ اوتراڑ کے گورنر کو سزا دی جائے، لوٹا ہوا مال واپس کیا جائے، اور اس قتلِ عام کا انصاف کیا جائے۔
لیکن محمد خوارزم شاہ نے نہ صرف یہ مطالبہ مسترد کر دیا بلکہ ایک سفیر کو قتل کروا دیا اور باقی دو کے سر منڈوا کر ذلیل حالت میں واپس بھیج دیا۔ اس زمانے میں سفیروں کو قتل کرنا یا ان کی بے حرمتی کرنا بین الاقوامی روایت کے خلاف انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔
اس کے بعد چنگیز خان نے خوارزم سلطنت پر حملہ کر دیا۔ 1219ء میں شروع ہونے والی اس مہم میں بخارا، سمرقند اور دیگر بڑے شہر فتح کر لیے گئے۔ محمد خوارزم شاہ مسلسل بھاگتا رہا اور آخرکار 1220ء میں بحیرۂ کیسپین کے ایک جزیرے پر وفات پا گیا۔
مؤرخین کے مطابق منگول حملوں میں لاکھوں، بلکہ بعض روایات کے مطابق کروڑوں مسلمان مارے گئے، اگرچہ درست تعداد معلوم نہیں۔ بخارا، سمرقند، مرو، نیشاپور، ہرات، بلخ، اُرگنج اور دیگر کئی عظیم مسلم شہر تباہ کر دیے گئے، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور علمی، معاشی اور تہذیبی مراکز برباد ہو گئے۔ منگول حملوں کا آغاز 1219ء میں ہوا، اور منگول طاقت تقریباً ایک صدی تک مسلم دنیا کے بڑے حصے پر غالب رہی، جبکہ 1258ء میں بغداد کی تباہی نے اسلامی تاریخ کے سب سے المناک ابواب میں ایک باب کا اضافہ کیا۔

Comments
Post a Comment
Thank you for commenting. Your comment shows your mentality.