یمن-سعودی عرب تنازع: اسباب، انسانی جانی نقصان اور معاشی تباہی
میں ساحل شریف دین بٹ ہوں اور میں یمن-سعودی عرب تنازع کو سمجھنے میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔
یمن میں تنازع کا آغاز 2014 میں ایک اندرونی سیاسی کشمکش کے طور پر ہوا۔ حوثی تحریک نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو چیلنج کیا۔ مارچ 2015 میں، سعودی عرب نے حکومت کی حمایت اور حوثیوں سے لڑنے کے لیے یمن میں ایک فوجی اتحاد کی قیادت کی۔ ایران حوثیوں کی حمایت کرتا ہے، جبکہ سعودی عرب مخالف حکومت کی حمایت کرتا ہے۔ یہ تنازع ایران اور سعودی عرب کے درمیان وسیع تر علاقائی رقابت کا حصہ بن چکا ہے۔
اس جنگ نے عظیم انسانی مصائب کو جنم دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے تخمینے کے مطابق، 2021 کے اختتام تک اس تنازع کی وجہ سے تقریباً 3,77,000 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ تقریباً 1,54,000 ہلاکتیں براہ راست لڑائی اور تشدد کے باعث ہوئیں۔ مزید 2,23,000 افراد بالواسطہ طور پر بھوک، بیماری اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی تباہی کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔ اس تخمینے میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2,59,000 بچے بھی شامل تھے۔ تاہم، یہ تاریخی تخمینے ہیں اور اکتوبر 2026 تک ہلاکتوں کی مکمل تعداد کی نمائندگی نہیں کرتے۔
بدقسمتی سے یہ تمام لوگ یمن کے مسلمان تھے، غیر مسلم نہیں ۔
یمن کو بھی زبردست معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ 2021 کے اختتام تک اس جنگ کی وجہ سے ملک کو ممکنہ معاشی پیداوار کی مد میں تقریباً 126 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا۔ لاکھوں یمنی شہریوں کو غربت، خوراک کی قلت، نقل مکانی اور ہسپتالوں، اسکولوں اور پینے کے صاف پانی تک محدود رسائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سعودی عرب کو بھی شدید سیکیورٹی خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حوثیوں نے ریاض، جدہ، ابہا اور جیزان سمیت سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے کی طرف میزائل اور مسلح ڈرون داغے ہیں۔ تاہم، پوری جنگ کے دوران نشانہ بننے والے تمام سعودی شہروں کا کوئی واحد تصدیق شدہ مجموعی اعداد و شمار موجود نہیں ہے۔
اکتوبر 2026 میں ایک خطرناک پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے مطابق، کئی محاذوں پر لڑائی ایک بار پھر مکمل جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ حوثی فورسز نے ہوائی اڈوں سمیت سعودی شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق، 10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے بھی حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جارحانہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
یہ تنازع اب بھی غیر حل شدہ ہے۔ دونوں طرف کے عام لوگ مسلسل مصائب کا شکار ہیں۔ دیرپا امن کے لیے سیاسی مذاکرات، شہریوں کے تحفظ اور علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔
یورپ کے کچھ ممالک اور سنی مسلمان ممالک جیسے ترکی، مصر ،پاکستان وغیرہ سعودی عرب کی مدد کے لیے سامنے اگئے ہیں، یہاں تک کہ اسرائیل بھی سعودی عرب کی مدد کے لیے سامنے آ چکا ہے۔ تخمینیں لگائے جاتے ہیں کہ یہ جنگ ابھی بہت خطرناک ہونے والی ہے۔
دنیا میں امن و آشتی اور ہم آہنگی کے لیے دعا گو رہیں۔

Comments
Post a Comment
Thank you for commenting. Your comment shows your mentality.